نیویارک ، 20؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )پاکستان نے اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کے سامنے کشمیر کامسئلہ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری بان کی مون اورسلامتی کونسل کے صدر کو لکھے خطوط میں حزب المجاہدین کے اعلیٰ کمانڈربرہان وانی کی موت کے بعد وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرتشویش کا اظہارکیا ہے ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے جولائی کے لیے سلامتی کونسل کے صدر اور جاپانی سفیر کورو بیشو، بان کی مون کے چیف آف اسٹاف اور سیاسی امور کے انڈر جنرل سکریٹری جیفری فیلٹمین کوکشمیر کی صورت حال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کی جارہی ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی طرف سے کل یہاں جاری بیان میں کہا گیا کہ ملیحہ نے خارجہ امور پر پاکستانی وزیر اعظم کے مشیرسرتاج عزیز کے لکھے خط بھی اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اور سلامتی کونسل کے صدر کو سونپا جن میں کشمیر میں تشویش ناک حالات پر پاکستان کی شدید فکرمندی کا اظہار کیا گیا ہے اورکشمیر میں قابض ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی طرف سے کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بے گناہ شہریوں کے ظالمانہ قتل کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے حکام کے ساتھ ملاقات میں بھی وانی کے مارے جانے کے مسئلہ کو اٹھایا اور اسے کشمیری نوجوان لیڈر کے قتل سے تعبیر کیا ۔انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ خود ارادیت کے حق کے لیے مظاہرہ کر رہے کشمیریوں کودہشت گردقرار دینا حقیقت کا مذاق اڑانا ہے اور اس سے جذبات مزید بھڑک رہے ہیں۔ملیحہ نے یہ بھی ٹوئٹ کیا تھا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے صدر کوکشمیر میں حالات کے بارے میں کل معلومات دی۔انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ عزیز کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط کو اقوام متحدہ کے ایک سرکاری دستاویز کے طورپرنشرکیاجائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ملیحہ نے اپنی ملاقاتوں میں جموں و کشمیر میں قابض ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں معصوم لوگوں پر وحشیانہ ظلم کو ختم کئے جانے کی اپیل کی۔کشمیر میں غیر منصفانہ قتل کی آزاد انہ اور شفاف انکوائری کی اپیل کرتے ہوئے ملیحہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی تجاویز کے تحت جموں کشمیر کے لوگوں کے تئیں اقوام متحدہ کا پرانا عزم ہے۔پاکستانی سفیر کو مطلع کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کشمیر کے حالات پر فکر مند ہیں اور اگر دونوں پڑوسی ملک اس کی ثالثی قبول کر لیتے ہیں تو وہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان امن مذاکرات کی ثالثی کے لیے تیارہیں ۔